History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu !free! -

اگرچہ یہ دعویٰ کرتی تھی کہ یہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ ہے، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ صرف ہندو مفادات کی محافظ ہے۔

4۔ میثاقِ لکھنؤ سے تحریکِ خلافت تک

ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان، نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تاکہ مسلم مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ 1911ء میں تقسیمِ بنگال کی منسوخی نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ اپنے حقوق کے لیے سیاسی طاقت ناگزیر ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے اسے مسترد کیا اور (Fourteen Points - 1929) پیش کیے، جسے مسلمانوں کے حقوق کا چارٹر کہا جاتا ہے۔ 9. خطبہ الہ آباد (Allahabad Address - 1930) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

14 اگست 1947ء (بمطابق 27 رمضان المبارک) کو دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے ابھرا، اور قائدِ اعظم محمد علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

اس کا قیام مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا، کیونکہ یہ بنیادی طور پر ہندو اکثریت کی نمائندہ جماعت بن گئی۔

6۔ 1930ء کی دہائی کی سیاست اور کانگریسی وزارتیں history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

1857ء میں انگریزوں کے خلاف ہندو اور مسلمان متحد ہو کر لڑے۔

ہندوؤں نے پہلی بار مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کے حق کو تسلیم کیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے قائدِ اعظم کو "سفیرِ ہند-مسلم اتحاد" کا خطاب ملا۔ ۸. تحریکِ خلافت (۱۹۱۹ء)

لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ نے ایک الگ وطن کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ اسے قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان) کہا جاتا ہے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب انگریزوں نے ترکی کی خلافت کے خلاف منصوبے بنائے تو برصغیر کے مسلمانوں نے شروع کی۔ مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی جیسے رہنماؤں نے اس تحریک کی قیادت کی۔ انہی دنوں قائد اعظم محمد علی جناح مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

دوسری جنگِ عظیم شروع ہونے پر کانگریسی وزارتوں نے استعفیٰ دے دیا، جس پر مسلم لیگ نے شکرانے کے طور پر "یومِ نجات" منایا۔ 8۔ منزلِ مقصود: 1940ء سے 1947ء تک

انگریزوں نے اس بغاوت کا اصل ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا۔ مسلم مغل سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا اور مسلمان شدید معاشی، تعلیمی اور سیاسی پسماندگی کا شکار ہو گئے۔

برصغیر کے شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر آزاد اور خودمختار ریاستیں قائم کی جائیں۔ اس قرارداد کے بعد مسلمانوں کی جدوجہد کا واحد مقصد "پاکستان کا حصول" بن گیا۔ 11۔ اہم مشنز اور مذاکرات (1942ء-1946ء)

اگر آپ کو اس دورِ تاریخ کے کسی مخصوص واقعے (جیسے ، میثاقِ لکھنؤ یا تقسیمِ بنگال ) پر مزید تفصیلی بحث، امتحانی سوالات کے جوابات، یا اہم شخصیات کے حالاتِ زندگی پر نوٹس چاہیے ہوں، تو ضرور بتائیے۔ آپ کس مخصوص امتحان کی تیاری کر رہے ہیں؟ Share public link